.jpg)
Read lattest reports only on waseem-reporter.blogspot.com
| منگل, 10 نومبر 2009 10:32 |
مختلف مدارس میں مختلف شعبوں کے حوالے سے کرائے جانیوالے خصوصی کورسز میں بھی طلبہ و طالبات کی ایک بڑی تعداد حصہ لے رہی ہے۔ پاکستان کے درجنوں بڑے مدارس میں اردو کے علاوہ انگلش اور عربی زبان پڑھانے کے علاوہ صحافت‘ بینکنگ‘ کمپیوٹر‘ اور سائنس کے حوالے سے خصوصی تخصصات کا آغاز ہوا ہے۔ جن میں ہزاروں طلبہ و طالبات شریک ہیں ۔ وفاق المدارس العربیہ پاکستان‘ رابطہ المدارس الاسلامیہ پاکستان‘ تنظیم المدارس پاکستان ‘ وفاق المدارس السلفیہ پاکستان کے تحت ملک بھر میں 20 ہزار سے زائد مدارس میں دینی تعلیم دی جاتی ہے جبکہ 5 ہزار سے زائد ایسے مدارس ہیں جو کسی بھی وفاق یا بورڈ میں رجسٹرڈ نہیں۔ مختلف ذرائع سے حاصل کردہ اعداد وشمار کے مطابق وفاق المدارس العربیہ کے تحت سال 2008-9ءمیں 2لاکھ 3سو 68 طلبہ و طالبات زیر تعلیم تھے‘ جن میں اس سال مجموعی طور پر 40فیصد اضافہ ہوا جس سے وفاق المدارس کے تحت دینی مدارس میں زیر تعلیم طلبہ و طالبات کی تعداد 2لاکھ 80 ہزار سے زائد ہو گئی ہے۔ رابطة المدارس الاسلامیہ پاکستان کے 632مدارس میں سال 2008-9ءمیں 64 ہزار 539 طلبہ و طالبات زیر تعلیم تھے۔ رواں سال داخلوں میں مجموعی طور پر 40 فیصد اضافہ دیکھنی میں آیا۔ اندازے کے مطابق رابطہ کے تحت مدارس میں طلبہ و طالبات کی مجموعی تعداد 90 ہزار سے زائد ہے۔ نئے تعلیمی سال 2009-10 کے لیے وفاق المدرس سے ملحقہ بڑے تعلیمی اداروں میں داخلے بند جبکہ تمام مدارس میں باقاعدہ نئے سال کا تعلیمی سلسلہ شروع ہوگیا ہے ، کراچی میں اس سال مجموعی طور پر 40 فیصد اضافی طلبہ وطالبات نے شہر کے مختلف چھوٹے بڑے مدارس میں داخلہ لیا ہے ، سروے کے دوران حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق رواں سال 2009-10ء میں 65 فیصد اضافی طلبہ وطالبات نے مختلف مدارس میں داخلہ حاصل کرنے کی کوشش کی تاہم صرف 40 فیصد امیدوار داخلہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے جبکہ 25 فیصد داخلہ کا امتحان پاس نہ کرنے اور مدارس میں مزید گنجائش نہ ہونے کی بنا پر داخلہ حاصل نہ کرسکے۔ جامعہ علوم الاسلامیہ بنوری ٹاون کے ترجمان مولانا اکرام اللہ چترالی کے مطابق اس سال 3ہزار نئے طلبہ نے داخلے کے لیے درخواستیں جمع کروائیں ، جن کو داخلہ دینے کے بعد مجموعی تعداد 12000 ہوگئی ہے۔ جامعة الرشید کے ناظم تعلیمات مولانا عبد الخالق کا کہنا تھا کہ اس سال شعبہ درس نظامی میں 700اضافی طلبہ نے داخلہ کا امتحان دیا جس میں سے 325 اضافی طلبہ کامیاب ہوئے جبکہ کلیة الشرعیہ واسپیشل کورسز میں داخلہ کی درخواستیں جمع کروانے کا تناسب 60 فیصد تھا۔ سروے کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مدارس میں اس سال داخلہ لینے والے بیشتر افراد عصری طور پر اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ڈگری ہولڈر ہیں جبکہ متعدد نئے داخل ہونے والے طلبہ اسکولوں اور کالجوں میںپوزیشن بھی حاصل کرچکے ہیں۔ مدارس کے منتظمین اس بات پر حیران ہیں کہ موجودہ حالات میں طلبہ کی تعداد کم ہونے کی بجائے زیادہ ہورہی ہے۔ مزید یہ کہ نئے آنے والے طلبہ اعلیٰ گھرانوں سے تعلق رکھنے کے ساتھ ساتھ عصری علوم میںبھی مہارت رکھتے ہیں۔ متعدد مدارس میں اس سال ایم بی اے، بی بی اے، انجینئرز اور ڈاکٹرز کے داخلہ لینے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ جب کہ معروف کالم نگار عبد القدوس محمدی نے کہا ہے کہ مدارس میں طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعداد ماضی کے عمل کا ردِ عمل ہے جو مدارس کے خلاف کیا جاتا رہا ہے۔ اس لیے کہ اسلام کی ہر دور میںیہ خاصیت رہی ہے کہ اسے جتنا دبایا گیا یہ اتناہی مزید نکھر کر سامنے آیا۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح مغرب میں اسلام کے خلاف سازشیں شروع ہوئیں تو وہاں اسلام تیزی سے پھیلنے لگا اسی طرح پاکستان کے مدارس کی صورتحال ہوچکی ہے اور لوگ اسکولوں، کالجوں کی بجائے مدارس کا رخ کررہے ہیں۔ |